Request A Book

Be Ehtiyatiyan بے احتیاطیاں (URDU)

طنزو مزاح ) بے احتیاطیاں)
SKU: MLK1-1
Book Cover: Paper back
Book Condition: New

Availability: In stock

Rs.650

OR

Add to Wishlist

Share this title with friends !

Share on Google Plus | GlobalBooks Share on Facebook | GlobalBooks Share on Twitter | GlobalBooks Share on Pinterest | GlobalBooks Share on instagram | GlobalBooks
Details
Description

محمد شکیل ملک کی اس کتاب سے استفادہ کرتے وقت مجھے پنڈی کا دبستان طنز و مزاح رہ رہ کر یاد آیا۔ سچ پوچھئے تو شکیل ملک بھی اسی کاروان کا ایک درماندہ راہرو ہے جو ایک مدت سے فضا کے پیچ و خم میں گم ہو چکا ہے۔ بیسویں صدی کی چھٹی دہائ میں یہ دبستان ظرافت اپنے عروج پہ تھا۔ سید ضمیر جعفری اور واہ آرڈیننس فیکٹری کی تہذیبی زندگی کے روح رواں شاعر اور دانشور ہر شام پنڈی میں ڈاکٹر غزن کے جمع ہو کر داد سخن دیا کرتے تھے۔ افواج پاکستان سے وابستہ کرنل محمد خان ، شفیق الرحمن اور صدیق سالک کے سے ادیب الگ اپنی محفل جمائے رکھتے تھے۔ ان سے ذرا سے فاصلے پر وزارت اطلاعات میں سید محمد جعفری کے گرد ایک حلقہ اپنی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کے گل بوٹے اگاتا اور پروان چڑھاتا رہتا تھا۔ سید محمد جعفری ان تینوں حلقوں کے درمیان ربط و تسلسل قائم رکھنے میں مصروف رہا کرتے تھے۔ ان ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کی بدولت پنڈی کا ایک منفرد اور ممتاز دبستان طنز و مزاح وجود میں آگیا تھا۔ اس دبستان سے وابستہ فنکاروں کا سب سے نمایاں امتیاز حسن خیال اور شائستہ اظہار ہے۔ اس دبستان سے ایک ذرا سے فاصلے پر جو لکھنے والے طنز کے نشتر چلاتے اور مزاح کی پھلجھڑیاں چھوڑنے میں مصروف رہتےوہ ذیادہ تر صحافتی کالم نگاری پر اکتفا کر بیٹھے تھے۔ مجید لاہوری اپنا "نمکدان" اٹھا کر کراچی جا بیٹھے تھے جہاں رئیس امروہی اور ان کا حلقہ کالم نگاری کو مزاح کے رنگ میں رنگنے میں مصروف تھا۔ لاہور میں چراغ حسن حسرت سے لیکر احمد ندیم قاسمی ( پنج دریا) تک متعدد لکھنے والے مزاح نگاری کو صحافتی کالم نگاری کے قالب میں ڈھالنے میں کوشاں رہے۔ اخباری کالموں میں طنزومزاح پہ مجھے میر تقی میر کی شاعری کا یہ محاکمہ یاد آتا ہے: "بلندش بغائت بلند، پستش بغائت پست"۔ ان فکاہی کالموں میں جب کسی نظریاتی یا ذاتی رقیب کی پگڑی اچھالی جاتی ہے تو مزاح نگاری اور یاوہ گوئ میں کوئ فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ تھی وہ فضا جس میں ہمارے ادبی آفاق پر پنڈی کا دبستان ظرافت طلوع ہو رہا تھا۔ ہر طلوع کے مقدر میں غروب بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غروب کے بعد پھر سے طلوع کی ساعت آجایا کرتی ہے۔ میں "بے احتیاطیاں" کے خالق محمد شکیل ملک کی تحسین کرتے وقت اردو دنیا کو پنڈی کے دبستان ظرافت کے احیا کی خوشخبری دیتا ہوں۔ ان کی زیرنظر کتاب شائستہ اور تہذیبی انداز نظر اور احساس کی لطافت کے ساتھ ہمارے گردو پیش کی زندگی کے بدنما حقائق کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہاں نہ طنز تضحیک کا دوسرا نام ہے اور نہ مزاح ٹھٹھے بازی۔ یہاں زندگی کے المناک حقائق انبساط کی لہروں کے ساتھ بہتے چلے آتے ہیں اور جب انبساط کی لہریں کناروں کو چھونے لگتی ہیں تو قاری ایک گہری سوچ میں گم ہو جاتا ہے۔ طنز و مزاح کی یہ روایت دبستان پنڈی کی شان امتیاز ہے۔ شکیل ملک نے دبستان کو نئ زندگی بخش کر امید کے نئے چراغ روشن کر دئے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ۔ فتح محمد ملک

Additional Info
Additional Info
Book ConditionNew
SKUMLK1-1
PublisherSelf Published (Agha Printers Islamabad)
Book CoverPaper back
Reviews from Goodreads
Reviews for Be Ehtiyatiyan بے احتیاطیاں (URDU)
Reviews
Write Your Own Review
You're reviewing: Be Ehtiyatiyan بے احتیاطیاں (URDU)
How do you rate this product? *
 1 star2 stars3 stars4 stars5 stars
Quality
Value
Price
Tags
Tags

Use spaces to separate tags. Use single quotes (') for phrases.

QUICK & SIMPLE Just reach us on Whatsapp, we will get back to you within seconds Click Here To Whatsapp Now  

Essential SSL